خلیجی ممالک کی ایران کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننے کی تردید
قطر، بحرین اور امارات میں ہنگامی الرٹس، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
خلیجی خطے کے متعدد ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ کی کسی بھی فوجی کارروائی یا جنگ کا حصہ نہیں ہیں، اگرچہ ان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
خطے کے کئی ممالک میں ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔ قطر میں گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران شہریوں کو گھروں میں رہنے، کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق آسمان پر دھوئیں کے آثار اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کو حرکت کرتے دیکھا گیا، جس کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس ہدف کو نشانہ بنایا گیا یا آیا یہ کروز میزائل، بیلسٹک میزائل یا ڈرون تھے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی بتایا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام متعدد ڈرونز اور میزائلوں سے نمٹ رہا ہے، جبکہ بحرین میں بھی حکام نے شہریوں کو احتیاطاً گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات ماضی میں بھی خطے میں کشیدگی کے دوران دیکھنے میں آئے ہیں۔
ایران بارہا خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی اور اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے کر امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔
تاہم خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی جنگ یا تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈے اور دفاعی تعاون صرف دوطرفہ دفاعی معاہدوں کے تحت قائم ہیں اور ان کا مقصد ان ممالک کی اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔