تیل کی قلت نے کیوبا کا ٹرانسپورٹ نظام بدل دیا
یہ ٹرائی سائیکلز نہ صرف شہریوں کی آمدورفت بلکہ سامان کی ترسیل اور مختصر فاصلے طے کرنے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
کیوبا میں طویل عرصے سے جاری ایندھن اور بجلی کے بحران کے باعث چینی ساختہ الیکٹرک ٹرائی سائیکلز شہریوں کے لیے آمدورفت کا اہم ذریعہ بن گئی ہیں۔ متعدد افراد نے ان گاڑیوں کو شمسی توانائی سے بھی منسلک کر لیا ہے تاکہ بجلی کی بندش کے دوران بھی انہیں استعمال کیا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں ایندھن کی مسلسل قلت نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں روایتی کلاسک گاڑیوں کی جگہ اب الیکٹرک تین پہیوں والی گاڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ یہ ٹرائی سائیکلز نہ صرف شہریوں کی آمدورفت بلکہ سامان کی ترسیل اور مختصر فاصلے طے کرنے کے لیے بھی وسیع پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کئی مالکان نے اپنی الیکٹرک ٹرائی سائیکلز پر شمسی پینل نصب کر رکھے ہیں، جس سے وہ سورج کی روشنی کے ذریعے بیٹریاں چارج کر کے طویل لوڈشیڈنگ کے دوران بھی گاڑیاں چلاتے رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق رواں برس کے آغاز میں کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر امریکی پالیسیوں کے اثرات کے بعد ایندھن کی فراہمی مزید متاثر ہوئی، جس سے توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔
ایندھن اور بجلی کی قلت کے باعث ملک میں لوڈشیڈنگ، خوراک اور ادویات کی کمی کے ساتھ ساتھ سرکاری ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر الیکٹرک ٹرائی سائیکلز مستقبل میں بھی کیوبا کے ٹرانسپورٹ نظام کا اہم حصہ بنی رہیں گی۔