ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں مکمل، پہلی بار سمندری ڈرونز استعمال کئے گئے۔ سینٹکام
فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا
سینٹکام کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا۔
سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ فضائی اور سمندری ڈرونز یکطرفہ حملوں کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘
’امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں کہ جہازرانی کی آزادی تجارتی بحری نقل و حمل کے لیے دستیاب رہے، باوجود اس کے کہ ایران اپنی بلاجواز جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور یک طرفہ اعلانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔