تیل کے کم ہوتے ذخائر، امریکہ اور ایران کے لیے طویل جنگ غیر موزوں قرار
عالمی تیل کے کم ذخائر، امریکہ اور ایران کے لیے طویل جنگ مہنگا سودا قرار
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر ٹریٹا پارسی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارت کاری پر اعتماد اگرچہ کمزور ہے، تاہم دونوں ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ ایک اور طویل جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ یہی حقیقت دونوں فریقوں کو کشیدگی کو بے قابو سطح تک پہنچنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ٹریٹا پارسی کے مطابق عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی طویل جنگ کو دونوں ممالک کے لیے انتہائی غیر موزوں بنا دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی تیل کے ذخائر اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے، جبکہ امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بھی ماضی کے مقابلے میں کم سطح پر ہیں۔ دوسری جانب ایران کے پاس بھی فروری کے مقابلے میں سمندر میں موجود تیل کی مقدار کم ہے، جس کے باعث کسی ممکنہ تیل کے بحران کے سنگین ہونے میں اب پہلے کے مقابلے میں کہیں کم وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تیل کی منڈی شدید متاثر ہوئی تو یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران بن سکتی ہے، اور یہی امریکا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔