ایران میں امریکی حملے تیز، دوبارہ جنگ کے خدشات میں اضافہ
آبنائے ہرمز کے قریب شدید بمباری، ایران میں معاشی غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوگئی
امریکی حملوں کے بعد ایران میں دوبارہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد ایک بار پھر وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ گزشتہ کئی روز کے دوران امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی اور بحری حملے کیے، جو گزشتہ ماہ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائیاں قرار دی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی جنگی طیاروں اور بحری جہازوں نے تقریباً ایک ہفتے کے دوران سیکڑوں فوجی تنصیبات کے علاوہ متعدد شہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کم از کم 10 صوبوں میں کیے گئے، جن میں زیادہ تر جنوبی ایران کے وہ علاقے شامل ہیں جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
دارالحکومت تہران، جہاں ایک کروڑ سے زائد افراد آباد ہیں، حالیہ حملوں سے محفوظ رہا ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بڑی حد تک جاری ہیں۔ تاہم مسلسل کشیدگی کے باعث معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فضائی کارروائیوں کے آغاز کو چار ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، جس کے باعث ایران کی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور مستقبل کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔