گھرمیں خرگوش اور شہتوت کے درخت کی یادوں نے 22 سال بعدبچے کو خاندان تک پہنچادیا

2055میں راستہ بھٹکنے کے بعد واپس نہیں لوٹ سکا

July 13, 2026 · امت خاص, چشم حیرت

تصویر: سوشل میڈیا

 

تقریباً 22 برس قبل پنجاب کے ضلع گجرات میں گھر سے نکلنے والا بچہ محمد اسامہ میاں خان بالآخر اپنے خاندان سے مل گیا۔ اس طویل جدوجہد اور الگ تھلگ زندگی کے بعد واپسی کی خوشی میں خاندان نے لاہور میں جذباتی ملاقات کی۔

2005 میں گجرات میں اپنی والدہ سے پیسے لے کر کوئی چیز خریدنے نکلنے والا اسامہ راستہ بھٹک گیا اور گھر واپس نہ لوٹ سکا۔ وہ مختلف مقامات سے گزرتا ہوا اسلام آباد کے ایدھی سینٹر پہنچا، جہاں سے ملتان اور پھر کراچی منتقل ہو گیا۔ کراچی میں ایک فیکٹری میں کام کرتے ہوئے اس نے 22 سال گزارے، جہاں وہ تنہا اور بے یار و مددگار رہا۔

اسامہ کی واپسی اور خاندان سے ملاقات میں سماجی کارکن ولی اللہ معروف نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی مسلسل کوششوں، سوشل میڈیا پوسٹس اور خاندان کی تلاش آخر کار رنگ لائی۔ اسامہ کے شناختی نشانات،ہاتھ اور ٹھوڑی پر زخم، سر پر پرانا نشان، کان کی ساخت اور گھر کے صحن میں شہ توت کےدرخت کی یادوں نے خاندان تک پہنچنے میں مدد کی۔

ولی اللہ معروف نے بتایا کہ اسامہ جب پہلی بار ان سے ملنے آئے تو تقریباً 10 منٹ تک روتے رہے۔ وہ انتہائی تنہا تھے اور کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں گزار رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شیلٹر ہوم میں رہنے والے دیگر بچوں کو خاندانوں سے ملانے کے بعد اسامہ نے بھی رابطہ کیا۔ پہلی پوسٹ سے کوئی نتیجہ نہ نکلا، لیکن دوسری پوسٹ نے خاندان تک رسائی دی۔

ابتدا میں خاندان کو شک تھا کہ یہ کوئی فراڈ تو نہیں، مگر مسلسل رابطوں سے شبہات دور ہوئے۔ اسامہ کے آبائی گھر میں مرد ارکان کی غیر موجودگی کی وجہ سے معاملہ سست تھا، لیکن اسامہ کی خالہ اور ان کی صاحبزادی ڈاکٹر ثمن راؤنے ذمہ داری اٹھائی۔

ڈاکٹر ثمن راؤ نے کہا کہ خون کا رشتہ ہے، ہم اسامہ کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے نہ صرف خود رابطہ کیا بلکہ پورے خاندان کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسامہ کے والد 11 سال پہلے وفات پا چکے تھے اور مرتے وقت بھی بیٹے سے ملنے کی تمنا کر رہے تھے۔ خاندان میں اسامہ کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی تھی۔

بالآخر لاہور کے گلبرگ میں ایک ہوٹل میں جذباتی ملاقات ہوئی۔ اسامہ کی والدہ، نانی، خالہ، بہنیں اور دیگر رشتہ دار موجود تھے۔گل پاشی، آئش بازی اور گلے ملنے کے مناظر دیکھنے لائق تھے۔ اسامہ کی والدہ نے کہا، “وہ کہاں جائے گا؟ اپنے گھر ہمارے ساتھ جائے گا۔”

اسامہ نے کہا، “مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنوں سے ملیں گے۔” انہوں نے ڈاکٹر ثمن راؤ، ان کی والدہ اور ولی اللہ معروف کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے یہ ملاقات ممکن ہو سکی۔

ولی اللہ معروف کا کہنا ہے کہ 22 سال بعد اچانک واپسی پر خاندان کا محتاط ردعمل فطری ہے، مگر ڈاکٹر ثمن راؤ اور خالہ کا غیر مشروط پیار اور صلہ رحمی اس کہانی کو خاص بناتا ہے۔

اس خوشگوار واپسی کے موقع پر خاندان نے کھانا کھایا اور اسامہ دونوں بہنوں کے ہمراہ اپنے گھر روانہ ہوا۔