حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ،سانحہ زیارت کے شہداء کی نمازِ جنازہ آج ہوگی

حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں کامیاب مذاکرات، تحریری معاہدہ طے پا گیا

July 18, 2026 · قومی

زیارت سانحے میں شہید ہونے والے تمام افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ آج شام 4:00 بجے کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں ادا کی جائے گی۔

بلوچستان حکومت اور شہداء کے لواحقین کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد شہداء کی تدفین کے حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں، جس کے بعد اجتماعی نمازِ جنازہ کے انعقاد اور تدفین کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

نمازِ جنازہ میں صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام، عسکری و سول انتظامیہ، سیاسی و سماجی شخصیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے، جہاں شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد تمام شہداء کے جسدِ خاکی سرکاری انتظامات کے تحت ان کے اپنے اپنے آبائی علاقوں کو روانہ کیے جائیں گے، جہاں انہیں مذہبی رسومات اور مقامی روایات کے مطابق سپردِ خاک کیا جائے گا۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نمازِ جنازہ میں شرکت کرکے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں اور ان کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کریں۔
اس سے قبل گزشتہ رات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہوگئیں، حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوگئے، جس کے بعد فریقین کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پا گیا۔

معاہدے کے مطابق شہدائے زیارت کے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ فریقین نے شہدائے زیارت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور شہداء کے لواحقین کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جبکہ بلوچستان کے شہری علاقوں میں پولیس فورس کی استعداد، افرادی قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ شہدائے زیارت کو مروجہ حکومتی پالیسی کے تحت شہید قرار دیا جائے گا اور ان کے لواحقین کو کفالت، بچوں کی تعلیم اور مالی معاوضہ سرکاری پالیسی کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف سرکاری عمارتیں ان کے نام سے منسوب کی جائیں گی۔

ریونیو سے متعلق عوامی تحفظات دور کرنے کے لیے وزیر ریونیو کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جس میں متعلقہ سرکاری افسران اور علاقے کے معتبرین شامل ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ شہداء ہمیں بے حد عزیز ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عظیم قربانیوں کو پوری قوم خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور حکومت صوبے میں امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔