سعودی عرب کی طرزپرپاکستان اورکویت میں دفاعی معاہدے کے لیے ابتدائی مذاکرات کا آغاز
توانائی اور سرمایہ کاری کے بدلے عسکری تعاون بڑھانے پر غور
پاک فوج۔ فال فوٹو
میڈیا رپورٹس اور عالمی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق، کویت پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعاون کو نمایاں طور پر بڑھانے کا خواہاں ہے اور وہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے قائم اسٹریٹجک دفاعی ماڈل سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔
۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے میں توسیع پر ابتدائی مذاکرات جاری ہیں، جہاں پاکستان دفاعی تعاون کے بدلے کویت سے توانائی کے شعبے میں شراکت داری اور سرمایہ کاری چاہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان درج ذیل شعبوں پر قریبی مشاورت جاری ہے۔
یت نے پاکستانی فوج کے دستوں، لڑاکا طیاروں، جدید ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام (Air Defence Systems) میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
فوجی تربیت، دفاعی مہارت، تکنیکی تعاون اور عسکری وفود کے تبادلوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔
کویت پاکستان میں ڈیزل کے لیے ایک با نڈڈ فیول اسٹوریج منصوبےمیں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے بدلے پاکستان اسے مطلوبہ دفاعی معاونت فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان 2023 سے فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں پر مشتمل ایک محدود دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود ہے، تاہم اب کویت اسے سعودی عرب کی طرز پر ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔تاہم، روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پاک،کویت دفاعی مذاکرات کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس علاقائی کشیدگی میں کمی کے بعد ہی ان مذاکرات میں واضح تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے اعتراف میں صرف کویت ہی نہیں، بلکہ بحرین نے بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اردن نے پاکستان سے جدید اسلحہ کی خریداری اور عسکری تربیت فراہم کرنے کے معاہدے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
فی الحال اس ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان یا کویت کی حکومتوں کی طرف سے کسی مخصوص منصوبے کا باضابطہ یا حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور یہ معاملہ ابھی ابتدائی سفارتی و عسکری مشاورت کے مراحل میں ہے۔