امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ سخت کر دی
امریکی بحری کارروائیاں تیز، ایرانی تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود
امریکہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ملک کی جنوبی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ سخت کر دی ہے، جس کے باعث ایرانی تیل کی برآمدات اور بحری سرگرمیاں ایک بار پھر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکہ نے پہلی بار اپریل کے وسط میں ایران پر بحری ناکہ بندی عائد کی تھی، جو نو ہفتوں سے زائد عرصے تک برقرار رہی۔ بعد ازاں جون میں دونوں ممالک کے درمیان چار ماہ سے جاری لڑائی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہونے کے بعد یہ پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں۔
پابندیوں کے خاتمے کے فوراً بعد ایران نے کروڑوں بیرل خام تیل برآمد کرنا شروع کر دیا تھا، جس کا بڑا حصہ آئل ٹرمینلز کے قریب لنگر انداز سپر ٹینکروں میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر حالیہ فوجی حملوں اور کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے بعد واشنگٹن نے مفاہمتی یادداشت کے تحت دی گئی تیل اور بینکاری سے متعلق رعایتیں واپس لے لیں اور ایران سے منسلک جہازوں کو مزید خام تیل لادنے کے لیے بندرگاہوں پر واپس آنے سے روک دیا۔
رپورٹ کے مطابق، مفاہمتی یادداشت حالیہ حملوں کے بعد عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہے، جس کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے آبنائے ہرمز میں تعینات اپنے متعدد بحری جہازوں کی پوزیشن تبدیل کر دی ہے۔ امریکی فوج نے بیلما نامی کیوراساؤ کے پرچم والے ایک سپر ٹینکر پر بھی حملہ کیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران ایرانی خام تیل منتقل کر رہا تھا۔