خلیجی ممالک میں ڈی سیلینیشن پلانٹس پر حملوں سے پانی کا بحران سنگین ہونے کا خدشہ
خلیجی ممالک پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔
کویت کی جانب سے ایران پر ملک کے ایک واٹر پلانٹ کو دوسری مرتبہ نشانہ بنانے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد خلیجی ممالک میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبِ سمندر کو میٹھا بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
خشک آب و ہوا اور کم بارشوں کے باعث خلیجی ممالک قدرتی میٹھے پانی کے محدود ذخائر رکھتے ہیں۔ گلف ریسرچ سینٹر کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق خطے میں زیرِ زمین پانی اور ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل ہونے والا پانی مجموعی آبی وسائل کا تقریباً 90 فیصد بنتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیرِ زمین پانی کے ذخائر متاثر ہونے کے بعد خلیجی ممالک نے اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک سمندری پانی کو صاف کرکے قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کے ساحلوں پر 400 سے زائد ڈی سیلینیشن پلانٹس قائم ہیں، جو دنیا کے پانی کی شدید قلت والے اس خطے کو پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔ عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کی 2023 کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ رکن ممالک دنیا کی مجموعی ڈی سیلینیشن صلاحیت کا تقریباً 60 فیصد رکھتے ہیں اور دنیا میں پیدا ہونے والے میٹھے کیے گئے پانی کا 40 فیصد یہیں تیار کیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پینے کے پانی کا 42 فیصد، کویت میں 90 فیصد، عمان میں 86 فیصد اور سعودی عرب میں 70 فیصد پانی ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ میٹھا کیا گیا پانی پیدا کرنے والا ملک ہے۔
دوسری جانب ایران بھی خلیجی ساحلی علاقوں، خصوصاً جزیرہ قشم میں قائم ڈی سیلینیشن پلانٹس سے فائدہ اٹھاتا ہے، تاہم ملک میں متعدد دریا اور ڈیم موجود ہونے کے باعث ایران کا ان پلانٹس پر انحصار دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔