کراچی میں34 سال بعد حادثے کےمتاثرہ شہری کو ایک کروڑ ہرجانہ اداکرنے کا عدالتی حکم
سرکاری بس حادثے میں معذور ہونے والے کشن لال کے حق میں فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
کراچی کی مقامی عدالت نے 34 برس بعد ٹریفک حادثے سے متاثرہ شہری کشن لال کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے حکومت سندھ اور بس ڈرائیور کو مشترکہ طور پر ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ہرجانے کی رقم تین ماہ کے اندر متاثرہ شہری کشن لال کو ادا کی جائے۔
سینیئر سول جج جنوبی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ حادثہ سرکاری بس ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔ عدالت کے مطابق چونکہ ڈرائیور سرکاری ادارے کی ملازمت کے دوران ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا، اس لیے حکومت سندھ بھی نقصان کی ذمہ دار ہے۔
یہ حادثہ 9 مارچ 1992 کو کراچی کی کورنگی روڈ نزد اختر کالونی پر پیش آیا تھا، جہاں لیاری کے 27 سالہ رہائشی کشن لال کو تیز رفتار سرکاری بس جے اے 0079 نے ٹکر ماری تھی۔ حادثے کے نتیجے میں ڈاکٹروں کو ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی اور وہ مستقل معذوری کا شکار ہو گئے
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مستقل معذوری کے اثرات صرف جسمانی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ روزگار، آمدنی، نقل و حرکت، خاندانی ذمہ داریوں اور سماجی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
متاثرہ شہری نے ہرجانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور مقدمہ 1994 میں دائر کیا گیا، تاہم مختلف قانونی مراحل اور عدالتی کارروائیوں کے باعث فیصلہ کئی برس تک زیر التوا رہا۔ بعد ازاں مقدمہ سٹی کورٹ منتقل کیا گیا، جہاں دوبارہ سماعت کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔
عدالت نے مزید کہا کہ دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ عوامی شاہراہ پر تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور غلط سمت میں گاڑی چلانا ایسی غفلت ہے جس کی ذمہ داری ڈرائیور پر عائد ہوتی ہے۔
عدالت کے مطابق کشن لال کئی برس تک حادثے کے اثرات برداشت کرتے رہے اور بالآخر تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔