آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول خطرناک نظیر ہوگا،مارکو روبیو
ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر یکطرفہ کنٹرول قائم کرنے یا وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی تجارت کے لیے ایک خطرناک نظیر ثابت ہو سکتی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر یکطرفہ کنٹرول قائم کرنے یا وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دنیا ایسے طرزِ عمل کو قبول کر لیتی ہے تو مستقبل میں دیگر خطوں میں بھی اہم بحری راستوں پر اسی نوعیت کے دعوے سامنے آ سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور سمندری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت آزادانہ جہاز رانی عالمی نظام کا بنیادی اصول ہے اور اس کا تحفظ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور امریکی فوج کے مطابق ایران میں فوجی اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔