جنسی ہراسانی کیس:اسرائیلی انٹیلی جنس افسر دوبارہ کمانڈ پر تعینات
ان پر ماتحت اہلکاروں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے جنسی ہراسانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے باعث عہدے سے ہٹائے گئے ایک سینئر انٹیلی جنس افسر کو نئی ذمہ داری سونپ دی، جس کے بعد ملک میں شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ لیفٹیننٹ کرنل دو سال قبل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے حساس یونٹ 8200 میں تعینات تھے، جہاں ان پر ماتحت اہلکاروں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
الزامات سامنے آنے کے بعد فوجی حکام نے معاملے کی تحقیقات کرائیں، جس کے نتیجے میں افسر کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اس کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی گئی۔
ابتدائی طور پر اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ افسر فوج میں خدمات انجام دیتا رہے گا، تاہم اسے کسی ایسے عہدے پر تعینات نہیں کیا جائے گا جہاں وہ براہِ راست فوجیوں کی کمانڈ سنبھالے، کیونکہ اس کا سابقہ طرزِ عمل فوجی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تاہم بعد ازاں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ مذکورہ افسر کو ایک نئی ذمہ داری دے دی گئی ہے، جس میں وہ دوبارہ فوجیوں اور افسران کی قیادت کریں گے۔ اس فیصلے پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تمام ضروری کارروائی کمانڈ چین کے تحت مکمل کی گئی تھی اور افسر کو مناسب تادیبی سزا بھی دی جا چکی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف ریپ کرائسز سینٹرز نے فوجی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ افسر کی کمانڈ عہدے پر تعیناتی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
تنظیم کے مطابق جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے افسر کو دوبارہ قیادت سونپنا متاثرہ افراد کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے اور فوج میں احتساب کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج گزشتہ چند برسوں کے دوران جنسی ہراسانی، اختیارات کے غلط استعمال اور فوجی نظم و ضبط سے متعلق مختلف واقعات پر مسلسل تنقید کی زد میں رہی ہے۔