امریکی ایوانِ نمائندگان نے 1.15 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی

نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) کو 216 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔

July 23, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان نے مالی سال 2027 کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کے مجوزہ دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے کے دوران کانگریس میں دفاعی اخراجات کے حجم پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید اختلافات بھی دیکھنے میں آئے۔

رپورٹس کے مطابق نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) کو 216 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ بل کی حمایت زیادہ تر ریپبلکن ارکان نے کی، جبکہ ڈیموکریٹک اراکین کی بڑی تعداد نے اس کی مخالفت کی۔

ڈیموکریٹس کا مؤقف تھا کہ ایسے وقت میں جب حکومت مختلف سماجی شعبوں کے اخراجات محدود کر رہی ہے، دفاع کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے مالی بوجھ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب ریپبلکن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر امریکی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بجٹ سے جدید دفاعی نظام، نئی عسکری ٹیکنالوجی، فوجی تنصیبات کی ترقی، جنگی سازوسامان کی خریداری اور فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے جیسے منصوبوں پر عمل درآمد ممکن ہوگا۔

بل میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور عسکری ٹیکنالوجی کے تعاون کو مزید وسعت دینے کی شق بھی شامل ہے، جس پر بعض ڈیموکریٹک ارکان اور انسانی حقوق کے حامی حلقوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔

یہ بل اب مزید غور و خوض کے لیے امریکی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس پر بحث اور ممکنہ ترامیم متوقع ہیں۔ اگر سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان ایک متفقہ مسودے کی منظوری دیتے ہیں تو اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ قانون کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔