ایران پر امریکی حملوں کے بعد خام تیل 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے آئل ٹینکروں پر حملوں کے دعوؤں نے عالمی منڈی میں خدشات کو بڑھا دیا ہے
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری تنازع کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو حالیہ ہفتوں کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 88.27 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید نمایاں ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی کارروائیوں، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے آئل ٹینکروں پر حملوں کے دعوؤں نے عالمی منڈی میں خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
سرمایہ کار اس وقت خطے کی بدلتی صورتحال، عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل پر ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، کیونکہ یہی عوامل مستقبل میں تیل کی قیمتوں کا تعین کریں گے۔