بحیرہ احمر میں سعودی جہاز پر حملہ، سعودی عرب نے واقعے کی تصدیق کر دی

حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بروقت اقدامات کے باعث آگ پر قابو پا لیا گیا

July 23, 2026 · بام دنیا

ریاض: سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی کمپنی کے تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اینسیلیا نامی جہاز، جو ایک سعودی کمپنی کی ملکیت ہے، بحیرہ احمر سے گزرنے کے دوران حملے کی زد میں آیا۔

حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بروقت اقدامات کے باعث آگ پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم سعودی حکام نے حملے کی نوعیت یا ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب دنیا کے اہم ترین تجارتی اور توانائی کے بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی جہاز رانی، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

حالیہ واقعے کے بعد بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ عالمی بحری کمپنیوں کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔