آئل ٹینکرز مالکان کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم، ملک گیر ہڑتال کی دھمکی

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے، کمرشل لوڈنگ کے خاتمے اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔

July 23, 2026 · قومی

کراچی: آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن اور کنٹریکٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 72 گھنٹے کا وقت دے دیا ہے، بصورت دیگر ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئل ٹینکرز رہنماؤں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات حل نہ کیے گئے تو ملک بھر میں تیل کی ترسیل کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کی ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا پر عائد کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے، کمرشل لوڈنگ کے خاتمے اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔

چیئرمین آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن عابد اللہ آفریدی نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ موٹروے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے کرایوں کو نئے اخراجات کے مطابق مقرر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مذاکرات اور خط و کتابت جاری رہی، تاہم مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج کا فیصلہ کرنا پڑا۔

ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شعیب خان نے کہا کہ پائپ لائن کو زیادہ کوٹہ ملنے کے باعث آئل ٹینکرز کو لوڈنگ کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پائپ لائن اور روڈ ٹرانسپورٹ کے کوٹے کو واضح کیا جائے تاکہ ٹینکرز مالکان کو نقصان نہ ہو۔

آئل ٹینکرز رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر 72 گھنٹوں میں مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جا سکتی ہے۔