جعلی شناختی دستاویزات کیس،گرفتار نادرا افسران سے اہم انکشافات
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ 100 سے زائد غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پراسیس کیے گئے
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے گرفتار نادرا افسران سے دورانِ تفتیش اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملزمان پر غیر ملکی شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پاکستانی شناختی کارڈز کی پراسیسنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ 100 سے زائد غیر ملکیوں کے شناختی کارڈز مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پراسیس کیے گئے۔ اس مقصد کے لیے ایک نجی ایجنٹ کی جانب سے پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس سمیت دیگر مطلوبہ دستاویزات فراہم کی جاتی تھیں۔
تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر سابق نادرا ملازم کے ذریعے یہ دستاویزات متعلقہ افسران تک پہنچائی جاتی تھیں، جبکہ شناختی دستاویزات کی جانچ اور پراسیسنگ کے عوض مبینہ طور پر رقم بھی وصول کی جاتی رہی۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے ایک نے متعدد مشتبہ شناختی کارڈز کی پراسیسنگ سے متعلق بھی انکشافات کیے ہیں۔ ایف آئی اے نے ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر متعلقہ مواد بھی تحویل میں لے لیا ہے، جس کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ جعلی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ایف آئی اے نے چار ملزمان کو پیش کیا۔
عدالت نے ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے مزید تفتیش کی اجازت دے دی۔
ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر شناختی ریکارڈ میں رد و بدل کر کے غیر ملکی شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات تیار کرتے تھے۔ ادارے کے مطابق کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور دیگر ممکنہ ملوث افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔