پیپلز پارٹی کومینار پاکستان جلسے کی اجازت نہ مل سکی۔سکیورٹی خدشات ہیں،پولیس
سامان گیٹ پر روک دیا گیا۔ہارٹیکلچر اتھارٹی نے 60لاکھ زرضمانت مانگ لیا
فائل فوٹو
لاہور میں پیپلز پارٹی کے 25 جولائی کو مینار پاکستان پر ہونے والے گرینڈ جلسے کے لیے اجازت نہ مل سکی، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلعی انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرا دی جبکہ جلسے کے لیے پہنچنے والا سامان بھی روک دیا گیا۔
پولیس نے جلسہ گاہ پہنچنے والی کرسیاں، جنریٹر، لائٹس، ساؤنڈ سسٹم اور ڈیکوریشن کے سامان سے لدے ٹرک مینار پاکستان کے گیٹ پر روک دیے۔
پیپلز پارٹی نے 25 جولائی کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس میں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو کی شرکت متوقع ہے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مینار پاکستان فیملیز کے تفریحی مقام کے طور پر استعمال ہوتا ہے،سکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں۔
پی ایچ اے نے جلسے کے لیے زر ضمانت کے طور پر 60 لاکھ روپے طلب کیے ہیں،جلسے کی اجازت کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں بلایا گیا۔ پی ایچ اے نے پارک متاثر ہونے کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہ دینے کی تجویز دی ہے۔
پیپلز پارٹی رہنما فیصل میر نے کہا کہ جلسے میں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو شرکت کریں گے، 25 جولائی کو رات 8 بجے سے صبح 4 بجے تک جلسے کی اجازت مانگی گئی ہے۔
فیصل میر نے الزام عائد کیا کہ لاہور انتظامیہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی اجازت کے باوجود پیپلز پارٹی کے جلسے کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسیاں، لائٹس، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سامان گیٹ پر روک لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی تمام رکاوٹوں کے باوجود مینار پاکستان پر کنونشن منعقد کرے گی اور اپنے جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔