موبائل فونز کیلئے ای سم ناکام ثابت ہونے لگی، وجہ کیا ہے
فزیکل سم کارڈ کی طرح eSIM بھی اب تک مکمل آزادی فراہم نہیں کر سکی، کیونکہ اس کا استعمال بڑی حد تک موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کی پالیسیوں پر منحصر ہے
دنیا بھر میں فزیکل سم کارڈز کے متبادل کے طور پر متعارف ہونے والی eSIM ٹیکنالوجی سے توقع کی جا رہی تھی کہ موبائل کنکشن کا استعمال مزید آسان اور تیز ہو جائے گا، تاہم بعض صارفین کے مطابق کیریئر کمپنیوں کی پابندیوں نے اس سہولت کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق eSIM کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ صارفین بغیر کسی فزیکل سم کارڈ کے آسانی سے نیٹ ورک تبدیل کر سکیں، بیرون ملک سفر کے دوران مقامی نیٹ ورک استعمال کر سکیں اور سم تبدیل کرنے کے مسائل سے نجات حاصل کر سکیں۔
تاہم عملی طور پر کئی صارفین کو eSIM ایکٹیویشن، نیٹ ورک تبدیلی اور نئے فون میں منتقلی کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات صارفین کو کیریئر کمپنی کی مدد حاصل کرنا پڑتی ہے، جس سے وہ آسانی کا عمل مزید پیچیدہ محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فزیکل سم کارڈ کی طرح eSIM بھی اب تک مکمل آزادی فراہم نہیں کر سکی، کیونکہ اس کا استعمال بڑی حد تک موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کی پالیسیوں پر منحصر ہے۔
صارفین کے مطابق اگر فون خراب ہو جائے یا چوری ہو جائے تو eSIM کی منتقلی فزیکل سم کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتی ہے، جبکہ مختلف کمپنیوں کے درمیان eSIM منتقل کرنے کا عمل بھی ابھی مکمل طور پر آسان نہیں بنایا گیا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسا عالمی معیار ضروری ہے جس کے ذریعے صارفین کسی تیسرے فریق کی مدد کے بغیر آسانی سے eSIM کو ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں منتقل کر سکیں۔
ان کے مطابق مستقبل کا موبائل نظام ایسا ہونا چاہیے جہاں صارف صرف شناختی تصدیق کے ذریعے وائی فائی کی طرح آسانی سے کسی بھی نیٹ ورک سے منسلک ہو سکے۔