آبنائے ہرمز کی متبادل پانچ پائپ لائنیں کون سی ہیں
اگرچہ آبنائے ہرمز اب بھی دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے، تاہم کئی ممالک نے متبادل راستوں کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے شروع کر دیے ہیں۔
دبئی: آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تیل سپلائی کو لاحق خطرات کے پیش نظر خلیجی ممالک متبادل پائپ لائن منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ خام تیل کی برآمدات کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کم سے کم انحصار کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز اب بھی دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے، تاہم کئی ممالک نے متبادل راستوں کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے شروع کر دیے ہیں۔
1۔ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ (مشرق۔مغرب) پائپ لائن
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل کے ذخائر کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے جوڑتی ہے۔ اس وقت اس کے ذریعے تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ خام تیل منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ منصوبہ ہے کہ 2029 تک اس کی گنجائش بڑھا کر 9 ملین بیرل یومیہ کر دی جائے۔
2۔ متحدہ عرب امارات کی حبشان۔فجیرہ پائپ لائن
یہ پائپ لائن ابوظہبی کے حبشان آئل فیلڈ کو فجیرہ بندرگاہ سے ملاتی ہے، جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے۔ اس وقت اس کی گنجائش 1.8 ملین بیرل یومیہ ہے، جسے 2027 تک بڑھا کر 3.6 ملین بیرل یومیہ کرنے کا منصوبہ ہے۔
3۔ عراق۔شام پائپ لائن منصوبہ
عراق اور شام بحیرہ روم تک تیل پہنچانے کے لیے پرانی پائپ لائنوں کی بحالی اور نئی لائنوں کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔ منصوبہ مکمل ہونے پر روزانہ 2 سے 3 ملین بیرل خام تیل برآمد کیا جا سکے گا۔
4۔ عراق۔ترکی (کرکوک۔جیہان) پائپ لائن
کرکوک سے ترکی کی بندرگاہ جیہان تک جانے والی یہ پائپ لائن کئی برسوں سے جزوی طور پر غیر فعال رہی، تاہم اسے دوبارہ مکمل صلاحیت کے ساتھ چلانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس کی متوقع گنجائش تقریباً 1 ملین بیرل یومیہ ہے۔
5۔ عراق۔اردن (بصرہ۔عقبہ) پائپ لائن
یہ مجوزہ منصوبہ بصرہ سے اردن کی بندرگاہ عقبہ تک خام تیل پہنچانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے پر روزانہ 1 سے 2.5 ملین بیرل خام تیل بحیرہ احمر کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہوگا، تاہم مستقبل قریب میں بھی یہ گزرگاہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم رہے گی۔