دھوکے سے ملائشیا میں داخل ہونے والے اسرائیلی کو نکالنے پر امریکہ میں ملائیشین سفیر کی طلبی
دیرینہ پالیسی جاری رہے گی، وزیراعظم انور ابراہیم
تصویر: سوشل میڈیا
امریکی محکمہ خارجہ نے ملائیشیا کے سفیر کو طلب کر لیا ۔الجزیرہ نے ملائیشیائی سرکاری نیوز ایجنسی برناما کے حوالے سے بتایاہے کہ، سفیر محمد شاہرل اکرام یعقوب نے امریکی محکمہ خارجہ کو بتایا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ملائیشیا کی پالیسی نئی نہیں ۔ یہ ہمیشہ سے ملائیشیا کی پالیسی رہی ہے۔ ہماری امیگریشن پالیسی اسرائیلی ریاست یا صیہونی رجیم کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہ ہمارا دیرینہ موقف ہے۔
ملائشیاکے سفیر کا کہناہے کہ ایک ایسا شخص تھا جس کی دوہری شہریت تھی امریکہ اور اسرائیل،وہ اپنے امریکی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملائیشیا داخل ہوا۔ تاہم چیک کرنے پر پتہ چلا کہ اس کے پاس اسرائیلی شہریت بھی ہے، اس لیے ہم نے اسے ملک چھوڑنے کو کہا۔
ملائیشیاان ملکوں میں شامل ہے جن کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلق نہیں اور اس نے فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ و مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کی مخالفت پر زور دیا ہے۔تاہم یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب’’نیٹ ورک اسکول‘‘ نامی ایک ڈیجیٹل کمیونٹی، جو امریکی سرمایہ کارنے ملائیشیا میں قائم کی تھی، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا نشانہ بن گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کمیونٹی میں اسرائیلی شرکاء بھی موجود ہیں۔
نیٹ ورک اسکول کی تحقیقات ہوئیں، جن میں ملائیشیائی حکام نے پایا کہ تمام شرکاکے پاس درست ٹریول دستاویزات تھیں، تاہم اسکول کوبند کر دیا گیا۔بعد میں آٹھ امریکی کانگریس ارکان نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ایک خط لکھا جس میں ملائیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم کے اسرائیلی شہریوں کو ٹریک کرنے اور فوری طور پر ملک بدر کرنے کے منصوبے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔
انور ابراہیم نے دوبارہ واضح کیا کہ امریکی کانگریس ارکان کی مخالفت کے باوجود ملائیشیا اسرائیلی شہریوں کے داخلے پر پابندی جاری رکھے گا۔انور نے مزید کہا کہ ملائیشیا فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت اور غزہ میں فلسطینیوں پر ظلم، جارحیت اور مسلسل قتل کی مخالفت کے اپنے عزم سے رہنمائی حاصل کر رہا ہے۔
ملائشیائی وزیراعظم کا کہناہے کہ یہ ہمیں روک نہیں سکتا۔ وہ دھمکیاں دے سکتے ہیں، لیکن میں ملائیشیائی عوام کے حقوق کی سختی سے حفاظت کروں گا اور حکومت کے فیصلے کو جاری رکھتے ہوئے کسی بھی اسرائیلی شہری کے ملائیشیا میں داخلے پر پابندی کو برقرار رکھوں گا۔
امریکی کانگریس ارکان نے محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کوالالمپور کے ساتھ معاشی اور سیکیورٹی تعلقات کا جائزہ لے۔انہوں نے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (جس کے تحت ملائیشیائی فوجی اہلکاروں کو امریکہ میں پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے) کے فنڈز روکنے کا مطالبہ کیا، جب تک کہ 15 دنوں کے اندر یہ فیصلہ واپس نہ لیا جائے۔