بھارتی ورکرز کو تائیوان میں ملازمتیں دینے پر شدید غصہ،عوام کو جرائم بڑھنے کا خدشہ

افرادی قوت کی قلت کےباوجود 40ہزار افراد نے بھارتیوں کی آمد کیخلاف پٹیشن پر دستخط کردئیے

July 27, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

تائیوان میں بھارت کے ساتھ ہونے والے لیبر معاہدے کے خلاف عوامی سطح پر شدید تحفظات سامنے آئے ہیں، جہاں ہزاروں شہریوں نے آن لائن پٹیشنز پر دستخط کر کے بھارتی ورکرز کی آمد روکنے یا عمل کو مزید سخت بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تائیوان کی حکومت نے ملک میں مینوفیکچرنگ اور دیکھ بھال کے شعبوں میں مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئی دہلی کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد اس معاملے پر عوامی ردعمل سامنے آیا۔

بھارتی ورکرز کی آمد کے خلاف دائر پٹیشن پر اب تک 40 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں، جو حکومتی فیصلے پر عوامی تشویش اور عدم اطمینان کو ظاہر کرتا ہے۔

مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے خدشات سماجی تحفظ، ثقافتی اختلافات اور امن و امان سے متعلق ہیں۔ مظاہرین اور پٹیشن کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ حکومت کو غیر ملکی لیبر درآمد کرنے کی پالیسی میں مکمل شفافیت اختیار کرنی چاہیے اور مقامی روزگار کے مواقع کو ترجیح دینی چاہیے۔

دوسری جانب تائیوان کی وزارتِ محنت نے کہا ہے کہ بھارتی ورکرز کا انتخاب سخت قانونی ضوابط، پس منظر کی جانچ اور اسکریننگ کے تحت کیا جائے گا تاکہ ملک کے امن و امان پر کوئی اثر نہ پڑے۔

وزارت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف ہنرمند افراد کو محدود تعداد میں لایا جائے گا، جبکہ پٹیشن میں اٹھائے گئے بعض اعتراضات کو بے بنیاد تعصب پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔