کل بلاول نے کسی کاگلہ پکڑا،پھرساری رات پیرپکڑکر بیٹھے رہے:عظمیٰ بخاری

پنجاب میں ایئر ایمبولینس موجود ہے جبکہ سندھ میں سائیکل چلائی گئی

July 29, 2026 · قومی

فائل فوٹو

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں عوام نے ترقی اور جدت کو ووٹ دیا، جسے مخالفین کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے “کسی کا گلہ پکڑا، پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے”۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ 18 ماہ میں جو کام کیے وہ سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ سسٹم کیوں نہیں، کچرا کیوں نہیں اٹھایا جاتا، جبکہ مخالفین اپنی 18 سالہ کارکردگی سامنے لائیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے ترقی اور جدت کو ووٹ دیا، میرپور ڈویژن کے عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سنایا، آزاد کشمیر کے لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کو منتخب کیا اور انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے، کیونکہ عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا ہی سیاست ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے انتخابات کے بعد ایک جماعت کے ذہنی دباؤ اور فرسٹریشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریر میں کسی کو فالو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں شرمندہ کر دو، بتا دو کہ 18 سال میں ہم نے کیا کیا”، جبکہ رائے ونڈ کا نام لے کر اسے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے ہارنے والے امیدواروں کو 25، 25 کروڑ روپے کے فنڈز ملے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ کشمیر کے عوام کو پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی نہیں بتا سکتی، تاہم وہ “مریم کا پنجاب اور بلاول کا سندھ” دکھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں گرین بسیں چل رہی ہیں، میل پروگرام جنوبی پنجاب کے بچوں کے لیے ہے، جنوبی پنجاب میں میٹرو مسلم لیگ (ن) نے چلائی، طیب اردوان اسپتال بنایا گیا اور بیوٹیفکیشن پروگرام کے تحت تمام اضلاع کو خوبصورت بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کا ایم پی اے یا ایم این اے جیتتا نہیں، لیکن وہ کشمیر کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی 18 سالہ کارکردگی کے بارے میں نہیں بتاتے کہ سندھ کے لیے کیا کیا گیا۔ ان کے مطابق کراچی کے عوام کو عام ٹرانسپورٹ تک فراہم نہیں کی جا سکی۔ انہوں نے بلاول بھٹو کو دعوت دی کہ پنجاب آئیں اور ترقیاتی منصوبے خود دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “مریم کا پنجاب اور بلاول کا سندھ” دیکھ لیا جائے، جو اپنے گھر کی سڑکیں نہ بنا سکے وہ کشمیر کی سڑکیں کیا بنائیں گے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں زیادہ بارش ہونے پر زیادہ پانی آتا ہے، تاہم واسا کو جدید مشینری فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایئر ایمبولینس موجود ہے جبکہ سندھ میں سائیکل چلائی گئی ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز سمجھتی ہیں کہ تمام بچوں کا حق ہے کہ انہیں لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ ملے، جبکہ سندھ کے بچے تعلیم کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی روشنیاں نواز شریف نے بحال کی تھیں۔ آخر میں انہوں نے دوبارہ کہا کہ “کل بلاول صاحب نے کسی کا گلہ پکڑا، پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے”۔