عراق نے سعودی عرب پر حملے سے متعلق الزامات پر ثبوت طلب کر لیے
عراقی حکومت ملکی خودمختاری کے تحفظ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے
عراق نے سعودی عرب پر ہونے والے حملے میں اپنی سرزمین کے استعمال سے متعلق الزامات پر ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اس حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
عراقی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر عراق کی سرزمین حملے کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو اس کے ثبوت پیش کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فریق نے تاحال اس حوالے سے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔
ترجمان نے کہا کہ عراقی حکومت ملکی خودمختاری کے تحفظ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل عراق کی قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں حالیہ فوجی کارروائیوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے سفارتی حل پر زور دیا گیا۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت عراق کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے اور ملکی خودمختاری و استحکام کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔
ادھر عراقی ملیشیا کا دعویٰ ہے کہ حالیہ فضائی حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ان حملوں سے مختلف مقامات کو نقصان بھی پہنچا۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔