پنجاب میں فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری
تمام بیراجوں، دریائے راوی کے تمام ہیڈ ورکس، جبکہ دریائے جہلم اور دریائے ستلج میں پانی کی صورتحال معمول کے مطابق ہے
لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آ چکا ہے، تاہم مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کے باعث مختلف علاقوں میں فلیش فلڈنگ، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ برقرار ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب کے تمام بیراجوں، دریائے راوی کے تمام ہیڈ ورکس، جبکہ دریائے جہلم اور دریائے ستلج میں پانی کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ دریائے سندھ میں صرف کالا باغ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ تربیلا، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی صورتحال قابو میں ہے۔
حکام کے مطابق نالہ ایک اور نالہ بئیں میں نچلے درجے جبکہ وزیرآباد کے نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی جپہ نے بتایا کہ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ فلیش فلڈنگ کا بھی خدشہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا امکان ہے، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔
پی ڈی ایم اے نے دریاؤں کے کنارے اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں متاثرین کو بنیادی سہولیات اور ضروری طبی امداد فراہم کی جائے گی۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ موسم کی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر، دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز ندی نالوں یا سیلابی پانی میں نہانے نہ دیں۔