امریکا نے ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
پابندیوں کی فہرست میں چین، بھارت، روس اور ایران سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 6 ادارے اور افراد شامل کیے گئے ہیں
واشنگٹن: امریکا نے ایران کی معروف نجی فضائی کمپنی ماہان ایئر اور اس سے وابستہ بعض غیر ملکی اداروں اور افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پابندیوں کی فہرست میں چین، بھارت، روس اور ایران سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 6 ادارے اور افراد شامل کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان میں بعض کمپنیاں ماہان ایئر کے لیے سیلز ایجنٹس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔
امریکی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ ماہان ایئر ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک سرگرمیوں میں معاونت کرتی رہی ہے اور مبینہ طور پر اہلکاروں، ہتھیاروں اور ڈرونز کی نقل و حمل میں کردار ادا کرتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایسے نیٹ ورک کو محدود کرنا ہے جو ایران کی مبینہ فوجی سرگرمیوں اور حساس سامان کی منتقلی میں معاونت کرتے ہیں۔
ماہان ایئر ایران کی بڑی نجی فضائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے جو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی پروازیں آپریٹ کرتی ہے۔ اس سے قبل بھی امریکا مختلف الزامات کے تحت اس ایئر لائن پر متعدد پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
تاحال ایران یا ماہان ایئر کی جانب سے نئی امریکی پابندیوں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔