پاکستان میں الجزیرہ کی ویب سائٹ اور نشریات پر غیر اعلانیہ پابندی

آزاد کشمیر کے احتجاج کی غیرمعمولی کوریج کی تھی،اموات کی تعداد زیادہ بتائی

August 3, 2026 · بام دنیا

 

پاکستان کے مختلف حصوں میں قطر کے بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ (Al Jazeera) کی ویب سائٹ اور لائیو سٹریمنگ تک صارفین کی رسائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور شہریوں کو ویب سائٹ کھولنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے

ذرائع اور مقامی صارفین کے مطابق، یہ تعطل اس وقت سامنے آیا جب الجزیرہ نے گزشتہ دنوں پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (PoJK) میں ہونے والے شدید عوامی احتجاج، مظاہروں، مقامی انتخابات اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی تفصیلی کوریج نشر کی۔

الجزیرہ انگلش نے 28 جولائی کو راولاکوٹ اور میر پور میں مرنے والوں کی تعداد 28 بتائی جب کہ بعد میں ایکشن کمیٹی نے خود بی بی سی اردو کو یہ تعداد 15 بتائی۔

ملک بھر میں صارفین کو الجزیرہ کی ڈیجیٹل سروسز اور ویب پورٹل تک رسائی کے دوران ‘کنکشن ری سیٹ’ (Connection Reset) اور لوڈنگ کے مسائل درپیش ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) یا حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس مبینہ بندش یا پابندی کے حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا وضاحتی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

 

الجزیرہ نے رپورٹ کہا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد کے رہائشیوں نے ہڑتال کے باعث انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں راولاکوٹ میں متعدد افراد کے ہلاک کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا اور کئی ایسے افراد کی رائے بھی شامل کی گئی تھی جن کے مطابق انھوں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے الجزیرہ کی رپورٹنگ کو ’زرد صحافت‘ قرار دیا۔

گذشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزارت نے کہا: ’ہم نے آج مظفرآباد میں الجزیرہ کی جانب سے چند مخصوص پولنگ سٹیشنوں سے کی گئی یک طرفہ رپورٹنگ کا نوٹس لیا ہے۔‘

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے الزام لگایا کہ ’مخصوص افراد کے پہلے سے طے شدہ بیانات‘ کے ذریعے الجزیرہ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات اور ووٹنگ کے عمل کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا: ’اس قسم کی زرد صحافت صرف ان بیرونی عناصر کے ایجنڈے کی توثیق کرتی ہے جن کے مخصوص مفادات ہیں اور جو اس انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ الجزیرہ کی جانب سے تاحال اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں حساس سیاسی صورتحال یا احتجاجی مظاہروں کے دوران مختلف بین الاقوامی اور مقامی نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عارضی طور پر بلاک یا سست کیا جاتا رہا ہے۔ الجزیرہ کی ویب سائٹ پر اس تازہ ترین پابندی کو بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔