کراچی کے نوجوان تاجر قتل کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم۔ کام شروع کردیا
سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سربراہ
کراچی میں 25 سالہ نوجوان تاجر میر علی رضا کے اغوا اور قتل کا معمہ حل کرنے کے لیے پولیس نے ایک تین رُکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو ہوں گے۔ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان سدوزئی بھی اس میں شامل ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم کو مقتول میر رضا علی خان کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ٹیم ضرورت پڑنے پر کراچی کے کسی بھی پولیس افسر کو اپنی معاونت کے لیے طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
ٹیم کے اراکین نے پیر کو میر علی رضا کے والد اور اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کے بیانات قلمبند کیے، جس کے بعد گلستان جوہر میں واقعے جائے وقوعہ کا بھی معائنہ کیا۔
میر علی رضا 28 جولائی کو اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے باہر نکلے تھے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔لیکن دس منٹ کا یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا اور ایک دن بعد بدھ کے کو پولیس کو ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتول کے سینے پر ایک گولی ماری گئی۔
پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ میر رضا نے ڈیجیٹل کرنسی میں اپنے اور کچھ جاننے والوں کے پانچ کروڑ روپے لگا رکھے تھے مگر تین چار ماہ پہلے ہونے والے نقصان کے بعد وہ بہت ڈپریشن کا شکار تھا۔اپریل سے اس نے انویسٹرز کو منافع دینا ترک کر دیا تھا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ان کا دباؤ یقینی طور پر ہو سکتا ہے، خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران میر رضا نے دوستوں سے بھاری قرض بھی مانگا جو نہیں مل سکا۔