سوات خودکش حملہ، تحقیقات میں اہم پیش رفت،حملہ آور کا تعلق دیر سے نکلا

ماضی میں بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا تھا۔ حکام نے حملہ آور کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ اس کے ممکنہ طور پر سرحد پار رابطوں کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔

August 4, 2026 · قومی

سوات: خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات جاری ہیں، ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کی شناخت اور اس کے پس منظر سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق دیر سے تھا اور وہ ماضی میں بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا تھا۔ حکام نے حملہ آور کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ اس کے ممکنہ طور پر سرحد پار رابطوں کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔

تحقیقات کے مطابق حملہ آور کبل تھانے تک پیدل پہنچا، جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد اکٹھے کرنے اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے، جن میں پولیس اہلکار اور شہری شامل ہیں، جبکہ متعدد زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ریسکیو اداروں کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرکے مختلف اسپتالوں منتقل کیا گیا، جبکہ امدادی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔

واقعے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق دھماکا کبل تھانے کے مرکزی گیٹ پر اس وقت ہوا جب علاقے میں احتجاج جاری تھا۔

تحقیقاتی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔
:::