میر رضا علی ہلاکت کیس،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین غلطیوں کاانکشاف
گولی کے نشانات، لاش کی حالت اور تفتیشی شواہد پر سوالات اٹھ گئے۔
فائل فوٹو
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کے کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین غلطیاں سامنے آگئی ہیں، جس کے باعث کیس کی تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ میر رضا علی کی لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی تھی، جبکہ گولی کی انٹری کا سائز بڑا اور ایگزٹ کا سائز چھوٹا ہے۔
ذرائع ایم ایل او کے مطابق تصاویر کے نشانات سے واضح ہوتا ہے کہ گولی پیچھے سے ماری گئی اور آگے سے نکلی۔ تصویر میں لاش کی کمر پر گولی کا چھوٹا نشان جبکہ سینے پر بڑا نشان موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق تصاویر میں لاش پھولی ہوئی اور چہرہ انتہائی خراب حالت میں نظر آرہا تھا، جبکہ چہرہ خراب ہونے کی وجوہات سر کے تفصیلی معائنے سے معلوم کی جا سکتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق تصویر میں لاش کے الٹے ہاتھ کی انگلیاں مٹھی کی شکل میں ٹوٹی ہوئی گھاس کے ساتھ بند تھیں۔ لاش کے سیدھے ہاتھ پر بھی کچھ مشکوک نشانات پائے گئے ہیں، جبکہ چہرے پر ٹھوڑی کے نیچے بھی ایک زخم نظر آ رہا ہے۔
دوسری جانب تفتیش کاروں نے 29 جولائی صبح 8 بجے کی سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل کرلی ہے۔ ویڈیو میں واقعے کی جگہ پر ایک کچرا چننے والا شخص تھیلا اٹھائے نظر آ رہا ہے، جو کچھ منٹ بعد وہاں سے چلا جاتا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق شبہ ہے کہ ممکنہ طور پر یہی شخص اسلحہ لے کر گیا ہے۔
واضح رہے کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو صبح 11 بجے کے بعد ملی تھی۔