پاکستان اور امریکہ کالعدم بی ایل اے کے خلاف بھی باہمی تعاون کریں گے

پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مکالمے کا چوتھا دور 4 اگست کو واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

August 5, 2026 · بام دنیا

 

 پاکستان اور امریکہ نے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون مزید مؤثر بنانے اور خطے کو درپیش دہشت گردی و شدت پسندی کے خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔دونوں ملک کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف تعاون مزید گہرا کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مکالمے کا چوتھا دور 4 اگست کو واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں موجودہ سکیورٹی چیلنجز، انسدادِ دہشت گردی میں باہمی تعاون کے فروغ، سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور شدت پسند گروہوں کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسے شدت پسند گروہوں کے خلاف تعاون جاری رکھا جائے گا جو شہریوں کی سلامتی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اعلامیے میں داعش خراسان (داعش-کے)، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے وابستہ گروہوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان اور امریکہ نے مستقبل میں بھی انسدادِ دہشت گردی، معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔