اسلام آباد ایکسپریس وے کو موٹروے قرار دینے کی تیاری- ٹال ٹیکس لگے گا

سروس روڈ کی تکمیل سے مقامی ٹریفک کو متبادل راستہ دستیاب ہوگا اور ایکسپریس وے پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا۔

August 8, 2026 · قومی

اسلام آباد ایکسپریس وے کو موٹروے کا درجہ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے بعد اس اہم شاہراہ پر ٹول ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان بھی سامنے آیا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ منصوبے کے دورے کے دوران منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

محسن نقوی کے مطابق مشرقی سروس روڈ کا منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ایکسپریس وے کو موٹروے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سروس روڈ کی تکمیل سے مقامی ٹریفک کو متبادل راستہ دستیاب ہوگا اور ایکسپریس وے پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم کیا جا سکے گا۔

فیض آباد سے گلبرگ تک سروس روڈ کی تعمیر

منصوبے کے تحت فیض آباد سے گلبرگ تک تقریباً 9 کلومیٹر طویل مشرقی سروس روڈ کو کشادہ اور بحال کیا جائے گا۔

سروس روڈ کا بنیادی مقصد ایکسپریس وے کے ساتھ رہنے والے شہریوں اور مقامی ٹریفک کو بہتر رسائی فراہم کرنا ہے، تاکہ کم فاصلے کا سفر کرنے والی گاڑیوں کو مرکزی شاہراہ استعمال نہ کرنا پڑے۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے ایکسپریس وے کی مرکزی گزرگاہ پر ٹریفک کا دباؤ کم ہونے اور ٹریفک کی روانی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

منصوبہ ایک سال میں مکمل کرنے کا ہدف

وزیر داخلہ نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ سروس روڈ ایسٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

منصوبہ ابتدائی طور پر ایک سال کی مدت میں مکمل کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم متعلقہ حکام تعمیراتی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے مقررہ مدت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ٹول ٹیکس کا معاملہ ابھی حتمی نہیں

اسلام آباد ایکسپریس وے کو موٹروے کا درجہ ملنے کی صورت میں اس پر ٹول ٹیکس کے نفاذ کی بحث بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

تاہم فی الحال ٹول ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی سرکاری اعلان یا نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اگر ٹول نافذ کیا گیا تو اس کی شرح کیا ہوگی اور کن گاڑیوں پر اس کا اطلاق ہوگا۔

اس لیے موجودہ صورتحال میں ٹول ٹیکس کے نفاذ کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسلام آباد میں مزید فلائی اوورز کا منصوبہ

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

وزیر داخلہ نے فیصل مسجد اور کشمیر چوک پر فلائی اوورز تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ کشمیر چوک کے اطراف ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے مشاورتی کام پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔

اگر ایکسپریس وے کو باضابطہ طور پر موٹروے کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو اس شاہراہ کے انتظام، ٹریفک قوانین، رسائی اور ممکنہ ٹول ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔

فی الحال اسلام آباد ایکسپریس وے کی موٹروے حیثیت اور ٹول ٹیکس کے نفاذ کا حتمی فیصلہ منصوبے کی تکمیل اور اس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری فیصلے سے مشروط ہے۔