تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود خیبرپختونخوا کے سکولوں کا ناقص نتیجہ

مردان تعلیمی بورڈ کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے نتائج میں متعدد سرکاری سکولوں کے طلبہ مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کرسکے

August 8, 2026 · قومی

 خیبرپختونخوا میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود سرکاری سکولوں کے امتحانی نتائج نے تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

مردان تعلیمی بورڈ کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے نتائج میں متعدد سرکاری سکولوں کے طلبہ مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کرسکے، جبکہ بعض اداروں میں ایک بھی طالب علم کامیاب نہیں ہوسکا۔

نویں جماعت کے نتائج کے مطابق صوابی کے گورنمنٹ ہائی سکول تاکیل کے تمام 13 طلبہ امتحان میں ناکام رہے۔ اسی طرح گورنمنٹ کالج ہائی سکول ڈاگئی کے طلبہ بھی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

نوشہرہ کے گورنمنٹ ہائی سکول خاورائی اور دروازگئی میں صرف ایک، ایک طالب علم کامیاب ہوسکا، جبکہ صوابی کے گورنمنٹ ہائی سکول مزہونڈ گادون کے تمام 8 طلبہ بھی فیل ہوگئے۔

کئی دیگر سکولوں میں بھی نصف سے زائد طلبہ امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے، جبکہ متعدد اداروں کے طلبہ 50 فیصد نمبر بھی حاصل نہ کرسکے۔

دسویں جماعت کے نتائج میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نظر نہیں آئی۔ متعدد سرکاری سکولوں میں نصف سے بھی کم طلبہ کامیاب ہوسکے۔

گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول محبت خان مردان کے 27 طلبہ میں سے صرف ایک طالب علم سی گریڈ حاصل کرکے کامیاب ہوا۔

خواتین کے سرکاری تعلیمی اداروں کے نتائج بھی تشویشناک رہے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول محب بانڈہ کی 59 طالبات میں سے صرف 3 کامیاب ہوئیں، جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول اکوڑہ خٹک کی بیشتر طالبات امتحان میں کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔

نتائج میں سامنے آنے والی یہ صورتحال صوبے میں جاری تعلیمی اقدامات، تدریسی معیار اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے مزید توجہ کی ضرورت ظاہر کرتی ہے۔