پی ٹی آئی کو مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ مل سکی،درخواست خارج
جلسے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 16 میں دیے گئے پُرامن اجتماع کے حق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار
لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مینارِ پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت سے متعلق دائر درخواست مسترد کردی۔
عدالت کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے میاں عثمان اکرم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جلسے کی اجازت نہ دینا آئین کے آرٹیکل 16 میں دیے گئے پُرامن اجتماع کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 16 شہریوں کو پُرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، تاہم جلسے یا عوامی اجتماع کے لیے متعلقہ قانون کے تحت ضلعی انتظامیہ سے اجازت اور این او سی حاصل کرنا ضروری ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں جلسے کی اجازت کے معاملے پر اجلاس ہوا، جس میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جلسہ منعقد نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر نے 3 اگست کو جلسے کی اجازت کے لیے دی گئی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مینارِ پاکستان ایک عوامی مقام ہے جہاں شہری سیر اور تفریح کے لیے آتے ہیں۔
چونکہ متعلقہ درخواست پر ڈپٹی کمشنر پہلے ہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لیے لاہور ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی۔