میر رضا علی کو گولی کیسے لگی،تشدد کہاں کہاں ہوا،میڈیکل رپورٹ نے سب بتا دیا

سر اور چہرے پر چوٹیں لگیں، گردن دبائی گئی، ہڈیوں پر نشانات موجود، گولی پیٹھ سے لگی

August 9, 2026 · امت خاص

گلستان جوہر کی حدود سے ملنے والی میر رضا کی لاش کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ پولیس سرجن کراچی کے دفتر سے جاری ہونے والی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق مقتول پر موت سے قبل تشدد کیا گیا اور اسے پیچھے سے گولی ماری گئی جو دل کو چیرتی ہوئی سینے سے باہر نکل گئی۔

کراچی کے نوجوان کاروباری شخص میر رضا علی کی قبر کشائی 8 اگست کو ہوئی اور قبرستان میں ہی میڈیکل بورڈ نے پوسٹ مارٹم کیا جس کے بعد لاش دوبارہ دفنا دی گئی۔
شام کو پوسٹ مارٹم رپوٹ جاری کی گئی جس کے مطابق 29 جولائی 2026 کو گلستان جوہر کی حدود میں میر رضا ولد میر حسن علی خان کی لاش ملی تھی، جسے اسی روز تھانہ فیروزآباد کی حدود میں واقع رحمانیہ سوسائٹی مسجد کے قبرستان میں دفنا دیا گیا تھا۔ 8 اگست 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے احکامات پر پولیس سرجن کی سربراہی میں ڈاکٹرز کے ایک پینل نے لاش کی قبر کشائی کی۔

تشدد کہاں کہاں ہوا؟

میڈیکل رپورٹ کے مطابق موت سے قبل مقتول کے سر اور چہرے پر چوٹیں پہنچائی گئیں۔
دائیں جانب ماتھے اور ناک کی ہڈی پر زخم کے نشانات پائے گئے اور ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔
سر کی ہڈی (کھوپڑی) کے پچھلے حصے (temporo-parietal-occipital) میں بھی فریکچر پایا گیا۔
گردن کی ہڈی (Hyoid bone) کے جوڑوں پر نیلے نشانات ملے ہیں جو گردن پر دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

گولی کیسے لگی؟

رپورٹ میں گولی لگنے کے زخموں کی مکمل تفصیلات بیان کی گئی ہیں:
مقتول کو پیچھے سے گولی ماری گئی؛ گولی کمر کے اوپری حصے (چھٹی پسلی کے قریب) سے داخل ہوئی، جس سے چھٹی پسلی ٹوٹ گئی۔
گولی بائیں جانب سے ہوتی ہوئی دل میں لگی، جس سے دل کے اگلے اور پچھلے حصے پر شدید زخم (Lacerations) آئے۔
گولی سینے کے اگلے حصے (تیسری پسلی کے قریب) سے جسم سے باہر نکل گئی۔
ڈاکٹرز کے بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ جسم پر پائے جانے والے یہ تمام زخم موت سے قبل (Antemortem) کے ہیں۔

اہم نمونے حاصل کر لیے گئے

رپورٹ کے مطابق تدفین کو 12 دن گزرنے کے باعث لاش خراب ہونے کے عمل سے گزر رہی تھی اور شناخت کے قابل نہیں رہی تھی۔ فرانزک، کیمیکل اور گن شاٹ ریزیڈیو (GSR) اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے قبر کی مٹی، کفن کے ٹکڑے، بال، دانت اور ہڈی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ موت کی حتمی وجہ کا اعلان ان تمام لیبارٹری رپورٹس کے موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

قتل ثابت ہو گیا

میر رضا علی کے والدین اور ان کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ میر رضا کو قتل کیا گیا تھا اور خودکشی کے دعوے جھوٹے تھے۔

جبران ناصر نے رپورٹ ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “میر رضا نے خودکشی نہیں کی، بلکہ تشدد کے بعد بیہمانہ قتل کیا گیا ہے۔ وہ ایک مظلوم شہید تھا، جو زندگی سے بھرپور تھا۔ معزز عدالت اور اسپیشل میڈیکل بورڈ کا شکریہ، جنہوں نے اپنے قانونی اور پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہوئے میر رضا پر لگائے گئے تمام بہتان جھوٹے ثابت کر دیے۔”