دفاعی معاہدے میں قطر، ایران اور ملائیشیا کو بھی شامل کیا جائے:لیاقت بلوچ
مکہ دفاعی معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان دفاع، سفارت کاری، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کے اتحاد کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مسلم ممالک کے باہمی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق مسلم دنیا میں طویل عرصے سے اتحاد اور مشترکہ تعاون کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان دفاع، سفارت کاری، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے تجویز پیش کی کہ دفاعی تعاون کے اس دائرے کو مزید وسیع کیا جائے اور قطر، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو بھی ممکنہ طور پر اس میں شامل کیا جائے، تاکہ مسلم ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہو۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے امریکی فوجی اڈوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اڈوں کا مقصد مسلم ممالک کے تحفظ کے بجائے امریکی مفادات اور پالیسیوں کا تحفظ ہے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق مسلم ممالک کے درمیان باہمی دفاعی اور اقتصادی تعاون بڑھنے سے خطے میں مشترکہ مفادات کے تحفظ اور خود انحصاری کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔