مکہ دفاعی معاہدے سے طاقتور نیٹ ورک بنانا چاہیے:حافظ نعیم الرحمٰن
اس معاہدے کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان مضبوط اور مؤثر تعاون کا نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔
پشاور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالم اسلام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ دفاعی معاہدے کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے اور ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان مضبوط اور مؤثر تعاون کا نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، کیونکہ بیرونی عناصر کو اندرونی حالات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے، جبکہ جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ افغان بارڈر ٹریڈ کو بہتر بنانے اور اس حوالے سے موجود مسائل حل کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان میں روزگار اور تعلیم جیسے معاملات بھی شامل تھے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں بڑی رقم حاصل کی ہے اور اس معاملے پر شفافیت ضروری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر نااہلی اور کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو ملک کے چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے دیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے منعقد کیے جائیں گے۔