پاکستان سے بھارت نقل مکانی کرنے والے 8 ہندو خاندان واپس روانہ ہوگئے

شہریت ملی نہ روزگار، ہندو تنظیم نے واپسی کی ویڈیو جاری کردی

August 9, 2026 · قومی

سالہا سال کی مالی بدحالی، قانونی دستاویزات کے حصول میں مشکلات اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے مایوس ہو کر دہلی میں مقیم 8 ہندو پناہ گزین خاندانوں نے واپس پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ہندو حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘ہندو سمن فاؤنڈیشن’ کے مطابق، ان 8 خاندانوں نے بھارت میں ایک طویل عرصے تک کسمپرسی کی زندگی گزارنے اور معاشی تنگدستی کا سامنا کرنے کے بعد انتہائی مجبور ہو کر واپس پاکستان لوٹنے کا یہ بڑا قدم اٹھایا۔

فاؤنڈیشن نے اس واقعے کے فوری بعد وزیر اعظم کے دفتر میں ایک تفصیلی 76 صفحات پر مشتمل پالیسی یادداشت (میمورنڈم) جمع کرائی ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت میں پناہ گزین اقلیتوں کے لیے ایک مستقل اور منظم قومی پالیسی بنائی جائے تاکہ ایسے خاندانوں کو معاشی اور قانونی تحفظ مل سکے۔

میڈیا رپورٹس اور فاؤنڈیشن کے بیانات کے مطابق، ان خاندانوں کی واپسی کی بنیادی وجوہات معاشی تنگدستی اور روزگار کا نہ ہونا، شہریت نہ ملنا، بچوں کی تعلیم کے مسائل اور شک کی نظر سے دیکھا جانا۔۔

بھارت میں پناہ گزین کا سرکاری درجہ نہ ملنے کی وجہ سے ان خاندانوں کے لیے باعزت روزگار کا حصول ناممکن ہو چکا تھا، جس سے وہ شدید غربت کا شکار ہو گئے۔
پاکستان سے بھارت جانے والے کئی خاندانوں نے ماضی میں میڈیا کو بتایا ہے کہ وہاں انہیں اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی واہگہ بارڈر کے ذریعے کئی پاکستانی ہندو خاندان بھارت سے مایوس ہو کر واپس پاکستان لوٹ چکے ہیں۔ ‘دی ایکسپریس ٹریبیون’ اور دیگر ذرائع کے مطابق، حال ہی میں ایک 24 رکنی ہندو خاندان نے بھی انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان واپسی اختیار کی تھی کیونکہ بھارت میں ان کے بنیادی انسانی اور معاشی حقوق کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔