میر رضا علی کی شرٹ پر تیزاب پھیکنے کا انکشاف، وکیل نے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت کردی

اہلخانہ نے درخواست نہیں کی، جبران ناصر شرٹ پر ہائیڈرو کلورک ایسڈ پایا گیا، اسی وجہ سے چہرہ مسخ تھا، ٹی وی

August 10, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے پراسرار قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، میر رضا کی شرٹ کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کی گئی جب کہ ان کے والد کے وکیل نے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب غفلت برتنے پر ایس ایچ او سمیت اعلیٰ پولیس افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔

میر رضا کا 30 جولائی کو جب پوسٹ مارٹم کیا گیا تو ان کی شرٹ فرانزک لیب بھیجی گئی تھی۔ فرانزک لیب کے ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی نے بتایا کہ شرٹ پر ہائیڈرو کلورک ایسڈ موجود تھا یعنی میر رضا کے جسم کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کی گئی۔ ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کے مطابق رضا میر کا چہرہ مسخ تھا جبکہ ہاتھوں سے فنگر پرنٹس لینا بھی ممکن نہیں تھا۔ یار رہے کہ اسی بنا پر ایس ایس نیاز کھوسہ نے لاش کی شناخت کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے۔

میر رضا کیس میں ایک اور اہم پیشرفت ان کے والد کے وکیل جبران ناصر کی طرف سے سامنے آئی جنہوں نے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت کی ہے۔ سندھ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سربراہ فریال تالپور نے کمیشن بنانے کی سفارش کی ہے تاہم جبران ناصر نے کہا کہ مقتول کے خاندان نے کسی جوڈیشل کمیشن کی درخواست کی ہے اور نہ ہی وہ اس کے لیے تیار ہیںں۔ انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے نام پر تفتیش کو الجھانے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔

واقعے کو ابتدائی طور پر خودکشی کا رنگ دینے اور فرائض میں غفلت برتنے پر [ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی اور ایس ڈی پی او شارع فیصل کو عہدوں سے ہٹا کر معطل کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن کی زیر نگرانی 5 رکنی نئی تفتیشی ٹیم اب تیزاب کے نشانات اور گولی کے زخموں جیسے فرانزک شواہد کی روشنی میں کیس کی آزادانہ تحقیقات کر رہی ہے۔