پاسداران انقلاب جرنیلوں کے ’استاد‘ محسن رضائی کو ایران کا سکیورٹی کونسل سربراہ کیوں لگایا؟
امریکہ اور اسرائیل سے کشیدگی، آبنائے ہرمز کی اہمیت اور حکومت کے اندر اختلافات کے دوران تجربہ کار سابق کمانڈر کی تقرری
ایران نے سابق کمانڈر پاسداران انقلاب محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کردیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شدید عسکری کشیدگی، آبنائے ہرمز سے متعلق دباؤ اور سفارتی مذاکرات سمیت متعدد حساس سکیورٹی فیصلوں کا سامنا ہے۔
محسن رضائی نے محمد باقر ذوالقدر کی جگہ لی ہے، جو علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد عارضی طور پر اس اہم عہدے پر آئے تھے۔ رضائی کی تقرری کو محض ایک انتظامی تبدیلی کے بجائے ایران کے سکیورٹی اور عسکری فیصلہ سازی میں اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تقرری کے پیچھے کم از کم پانچ اہم عوامل ہیں۔
ہنگامی دور کے بعد مستقل اور مضبوط قیادت
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی اسرائیل کے حملے میں مارے گئے تھے، جس کے بعد محمد باقر ذوالقدر کو ہنگامی بنیادوں پر عہدہ سونپا گیا۔
ذوالقدر بھی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر ہیں، لیکن ان کی تقرری کو ایک عبوری انتظام کے طور پر دیکھا گیا۔ اب حکومت نے نسبتاً زیادہ تجربہ رکھنے والی ایسی شخصیت کا انتخاب کیا ہے جس کا عسکری، سیاسی اور سکیورٹی نظام میں کئی دہائیوں پر محیط اثر و رسوخ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ محسن رضائی کی تقرری کو موجودہ بحران کے دوران ایک زیادہ مستقل اور بااثر سکیورٹی قیادت کی تلاش سے جوڑا جا رہا ہے۔
جرنیلوں کے استاد محسن رضائی کون ہیں؟
محسن رضائی پاسداران انقلاب کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور طویل عرصے تک اس ادارے کے کمانڈر رہے۔ انہوں نے تقریباً 16 سال تک پاسداران انقلاب کی قیادت کی۔
وہ ایران عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے سربراہ تھے۔ اس دور میں پاسداران انقلاب نے ایران کی جنگی حکمت عملی اور عسکری ڈھانچے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمانڈ سے الگ ہونے کے بعد بھی رضائی ایرانی ریاست کے طاقتور اداروں سے جڑے رہے۔ وہ مصلحتِ نظام کونسل کے سیکریٹری رہے اور بعد میں حکومتی عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔
اس طویل عسکری اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے انہیں ایران کے سکیورٹی نظام کی پرانی اور بااثر قیادت میں شمار کیا جاتا ہے۔
محسن رضائی کی نئی تقرری کی اہمیت سمجھنے کے لیے ان کے پاسداران انقلاب کے ساتھ تعلق کو دیکھنا ضروری ہے۔
رضائی نے اس وقت سپاہ کی قیادت کی جب آج کے کئی اہم ایرانی فوجی اور سکیورٹی عہدیدار اپنے عسکری کیریئر کے ابتدائی مراحل میں تھے۔ ان کے ماتحت کام کرنے والی نسل بعد میں پاسداران انقلاب کی اعلیٰ قیادت تک پہنچی۔
اسی تاریخی تعلق کی وجہ سے رضائی کو پاسداران انقلاب کے موجودہ اور سابق جرنیلوں میں غیر معمولی احترام حاصل ہے۔
ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ موجودہ ایرانی سیاسی اور عسکری قیادت کی اہم شخصیت محمد باقر قالیباف بھی انہیں اپنا استاد سمجھتے ہیں۔ قالیباف خود پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور بعد میں ایران کے پولیس چیف رہ چکے ہیں اور اب پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں۔
یوں رضائی کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ وہ کبھی پاسداران انقلاب کے کمانڈر تھے، بلکہ یہ بھی ہے کہ موجودہ ایرانی عسکری قیادت کے ایک بڑے حصے کے ساتھ ان کا تعلق براہ راست کمانڈ اور تربیت کے دور سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس مختلف عسکری اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ذوالقدر کے مقابلے میں زیادہ وزن موجود سمجھا جاتا ہے۔
’پرانے محافظوں‘ کی گرفت مضبوط ہونے کا اشارہ
رضائی کی تقرری کو ایران کے روایتی سکیورٹی اور عسکری حلقوں، یعنی ’اولڈ گارڈ‘ کی گرفت مضبوط ہونے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایران میں پاسداران انقلاب محض ایک فوجی ادارہ نہیں۔ اس کا ملکی سکیورٹی پالیسی، علاقائی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی میں بھی نمایاں اثر ہے۔
محسن رضائی اسی ادارے کی ابتدائی اور طاقتور نسل کے نمائندہ ہیں۔ انہیں دوبارہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مرکز میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ بحران میں فیصلہ سازی کے دوران تجربہ کار پاسداران قیادت کی رائے کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ خصوصاً اس وقت اہم ہے جب ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بیک وقت عسکری اور سفارتی محاذوں پر فیصلے کرنا ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں سخت موقف
محسن رضائی ایران اور امریکہ کے تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے معاملے میں سخت گیر مؤقف رکھتے ہیں۔
وہ اس بات کے حامی نہیں کہ ایران کسی جنگ بندی یا معاہدے پر صرف سیاسی وعدوں کی بنیاد پر اعتماد کرے۔ ان کے مطابق امریکہ کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کے لیے قابلِ اعتبار ضمانتیں ضروری ہیں۔
اسی لیے ان کی تقرری سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ تہران موجودہ کشیدگی میں مذاکرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں عسکری طاقت اور واضح سکیورٹی ضمانتوں کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
محسن رضائی کے انتخاب کی اہمیت کا سب سے واضح پہلو ان کا آبنائے ہرمز کے بارے میں موقف ہے۔
انہوں نے حال ہی میں آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو ’درجنوں ایٹم بموں سے زیادہ اہم‘ قرار دیا تھا۔
یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رضائی کے نزدیک آبنائے ہرمز ایران کے لیے محض ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی اور دفاعی اثاثہ ہے۔
ان کے مطابق ہرمز پر ایران کی گرفت ملک کو دشمنوں کے خلاف ایک ایسا دباؤ فراہم کرتی ہے جو روایتی ہتھیاروں یا جوہری صلاحیت سے بھی زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
رضائی نے اپریل میں بھی کہا تھا کہ امریکہ ایران کو بحری محاصرے میں لینے میں کامیاب نہیں ہوگا اور ایرانی مسلح افواج کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے اور ابھی تک استعمال نہ کیے گئے ذرائع موجود ہیں۔
مارچ میں رضائی نے جنگ کے تناظر میں یہ بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کی حکمت عملی میں ایک اگلا قدم تھا اور ایران نے واضح کیا تھا کہ جو ممالک اس کے مخالف محاذ میں شامل نہیں وہ ایرانی انتظام کے ساتھ آبنائے سے گزر سکتے ہیں۔
اس لیے انہیں ایسے وقت میں سکیورٹی کونسل کی قیادت دینا خاص اہمیت رکھتا ہے جب ہرمز ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے حساس معاملات میں شامل ہے۔
ذوالقدر کے مقابلے میں رضائی کا زیادہ عسکری اور سیاسی وزن
محمد باقر ذوالقدر بھی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر ہیں، لیکن محسن رضائی کا عسکری اور سیاسی وزن زیادہ سمجھا جاتا ہے۔
ذوالقدر کو علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد عہدے پر لایا گیا تھا، مگر ان کی مدت مختصر رہی۔ اس دوران صدر مسعود پزشکیان اور ذوالقدر کے درمیان کونسل کے امور پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق پزشکیان نے خود بھی کونسل کے معاملات پر اختلافات کی تصدیق کی تھی۔
ذوالقدر کے استعفے کے بعد اب محسن رضائی کی تقرری سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ تہران نے ایک ایسی شخصیت کو ترجیح دی ہے جس کے پاس عسکری اداروں کے ساتھ مضبوط روابط کے علاوہ سیاسی نظام میں بھی وسیع تجربہ موجود ہے۔
محسن رضائی کی تقرری کا ایک اہم پہلو ان کی دوہری حیثیت ہے۔
وہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری مقرر ہوئے ہیں، جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے انہیں کونسل میں اپنا نمائندہ بھی مقرر کیا ہے۔
اس سے رضائی کو صدر مسعود پزشکیان کی حکومت اور سپریم لیڈر کے دفتر، دونوں کے ساتھ براہ راست کام کرنے کی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔
یہ اس وقت خاص اہمیت رکھتا ہے جب سکیورٹی پالیسی پر حکومت کے مختلف مراکز کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
رضائی کی تقرری کا ایک مقصد ان اختلافات کو کم کرنا اور سکیورٹی پالیسی میں صدر، سپریم لیڈر اور عسکری اداروں کے درمیان زیادہ واضح ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔