پیٹرول درآمدی قیمت سے 130 روپے اور ڈیزل 116 روپے زائد فروخت
لیوی، ٹیکسز اور مارجنز کے سبب صارفین اضافی رقم دے رہے ہیں، تیل کمپنیاں اور ڈیلرز 16 روپے فی لیٹر کماتے ہیں
پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل استعمال کرنے والے شہری بڑھتے ہوئے ٹیکسز، لیویز اور مختلف مارجنز کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی بنیادی درآمدی قیمت کے مقابلے میں صارفین فی لیٹر 139 روپے 93 پیسے اضافی ادا کر رہے ہیں، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت بنیادی لاگت سے 116 روپے 10 پیسے زیادہ ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے بنتی ہے، جبکہ صارفین کے لیے اس کی قیمت 327 روپے 62 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔ یوں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 130 روپے 23 پیسے لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز شامل ہیں۔
پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پیٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 5 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
دوسری جانب ہائی سپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اس کی صارفین کے لیے مقررہ قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہے۔ اس طرح بنیادی لاگت کے علاوہ 116 روپے 10 پیسے مختلف لیویز، ٹیکسز اور مارجنز کی مد میں شامل کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 74 روپے 28 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔ اس کے علاوہ 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ قیمتوں میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت کے علاوہ بڑی رقم مختلف حکومتی لیویز، ٹیکسز، نقل وحمل سے متعلق مارجنز اور مارکیٹنگ و ڈیلر مارجنز کی صورت میں صارفین سے وصول کی جا رہی ہے۔