پشاور ہائیکورٹ کا 2 افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم
جازان ریفائنری سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی یومیہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت ہے
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں مقیم دو افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ان کے کیسز پر 60 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے سید احسان اللہ صالحی اور سید منیر احمد کی جانب سے دائر درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے کے مطابق دونوں درخواست گزار افغان صحافی ہیں اور قانونی ویزے پر پاکستان آئے تھے، جبکہ اس وقت بھی ملک میں موجود ہیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے 2026 میں فرانس میں آبادکاری کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں، جن پر کارروائی جاری ہے۔ ان کے مطابق فرانسیسی سفارتخانے کی جانب سے بھی ان کے کیسز کی توثیق کی جاچکی ہے۔
عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا گیا کہ قانونی طور پر پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود دونوں صحافیوں کو گرفتاری اور ملک بدری کا خدشہ ہے، جس کے باعث انہیں آزادانہ نقل و حرکت اور طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے آئندہ 60 روز تک درخواست گزاروں کو گرفتار نہ کریں اور انہیں افغانستان ڈی پورٹ بھی نہ کیا جائے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ دونوں درخواست گزاروں کے تیسرے ملک میں آبادکاری سے متعلق کیسز کا جائزہ لے کر مقررہ مدت میں فیصلہ کیا جائے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر وفاقی حکومت 60 روز کے اندر حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو سیکریٹری وزارت داخلہ درخواست گزاروں کو عارضی قیام کی اجازت دینے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔