دھرنا دینے والے انتخابات رکوانے میں ناکام ہوگئے،رانا ثناء اللہ
انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت عوام کے جائز مطالبات پر غور کرے گی، تاہم ان کے بقول قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مظفرآباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل دھرنے کے باعث نہیں رکا اور مسلم لیگ ن انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے کی کارروائی جاری ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کرنے والے عناصر انتخابات رکوانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت عوام کے جائز مطالبات پر غور کرے گی، تاہم ان کے بقول قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر پولنگ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ سیاسی مخالفین اپنی ممکنہ شکست کو دھاندلی کے الزامات کے ذریعے متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی عمل پر اٹھائے گئے اعتراضات کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ ماضی میں مرحلہ وار انتخابات کے معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق موجود تھا۔
وہ جو آزاد کشمیر کا الیکشن روکنا چاہتے تھے انہیں اب یہ معلوم ہوجانا چاہیے کہ وہ الیکشن نہیں روکے سکے،عوام نے مینیڈیٹ منتخب نمائندوں کے حوالے کردیا ہے،رانا ثنا اللہ pic.twitter.com/R9jtI5mxJq
— Abbas Malik (@AbbasMalik95703) August 10, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن انتخابی عمل کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنا جمہوری رویہ نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابی نتائج کے بعد تمام سیاسی جماعتیں انہیں تسلیم کرتے ہوئے جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں گی۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں واضح اکثریت حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں تشدد یا ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس موقع پر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے انتخابی نتائج سے پہلے ہی الزامات عائد کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل پر اعتراضات کرنے والوں کو عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔
امیر مقام نے پنجاب سے پولیس یا افراد لائے جانے کے الزامات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے الزامات کے شواہد سامنے لانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کا جاری رہنا اہم ہے اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے فیصلے کو قبول کریں۔