ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی کا معاملہ حل، صدر زرداری نے تمام سمریاں منظور کرلیں
ججز سے متعلق سمریوں کی منظوری کے معاملے کو حل کرنے میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
اسلام آباد: ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی اور مستقلی سے متعلق زیر التوا معاملہ حل ہوگیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے مختلف ہائیکورٹس میں ججز کی تعیناتی، مستقلی اور توسیع سے متعلق تمام سمریوں پر دستخط کردیے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی اور ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی گئی ہے۔
صدر مملکت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی، پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سمریاں بھی منظور کرلیں۔لاہور ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کو مستقل کرنے کی سمری پر بھی صدر مملکت نے دستخط کردیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ججز سے متعلق سمریوں کی منظوری کے معاملے کو حل کرنے میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے سے متعلق سمری کی بھی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ رخصت، پنشن اور مراعات آرڈر 1997 میں ترامیم کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب ہارون اختر کو وزیراعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کی سمری بھی منظور کرلی گئی۔
واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی، جبکہ پانچ ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے اور ایک جج کی مدت میں توسیع کی سفارش بھی کی گئی تھی۔
ججز سے متعلق سمریوں پر صدر مملکت کے دستخط نہ ہونے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے آج وفاق اور وزارت قانون سے اس معاملے پر جواب طلب کیا تھا۔
صدر مملکت کی جانب سے سمریوں کی منظوری کے بعد ججز کی تعیناتی اور مستقلی کا معاملہ حل ہوگیا ہے، جس کے بعد ہائیکورٹس میں متعلقہ عدالتی امور معمول کے مطابق آگے بڑھ سکیں گے۔
سمریوں کی منظوری کے بعد نئے تعینات اور مستقل کیے جانے والے ججز کی حلف برداری کی تقریبات جلد منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔