روس کو شمالی کوریا کی فوجی مدد ملنا دنیا کے لیے خطرہ ہے:زیلنسکی
اس تعاون کے اثرات صرف یوکرین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے شمالی کوریا سے فوجی اہلکار اور ہتھیار حاصل کرنا صرف یوکرین کے لیے نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
اپنے ویڈیو خطاب میں زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روس کو یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں پہلی مرتبہ شمالی کوریا کی مدد کی ضرورت پیش آئی ہے۔ ان کے مطابق روس جنگ کو مکمل طور پر اپنے وسائل سے جاری رکھنے کی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی کارروائیوں میں جتنی زیادہ تعداد میں شمالی کوریائی فوجی استعمال ہوں گے اور جتنے زیادہ میزائل و دیگر عسکری وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، ماسکو کو اپنی فوجی صلاحیتوں اور کمزوریوں پر قابو پانے میں اتنی ہی مدد مل سکتی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اس تعاون کے اثرات صرف یوکرین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مغربی سائبیریا میں روس کے ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر یوکرینی فضائی کارروائی کو بھی اہم کامیابی قرار دیا۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین روس کے اندر مزید دور تک حملے کرنے کی صلاحیت استعمال کرے گا تاکہ روسی قیادت اور عوام کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ جنگ کا خاتمہ ضروری ہے اور یوکرین اپنی دفاعی صلاحیتوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔