10برس پہلے ترکیہ کوبڑے فوجی بحران سے پاکستان نے کیسے نکالا؟
ناکام فوجی بغاوت کے بعدساڑھے چھ سو سے زائد تجربہ کار پائلٹس کو فارغ اور گرفتار کر لیاگیا تھا
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ اب ہوا ہے لیکن آج سے دس برس قبل پاکستان ترکیہ کو ایک بڑے فوجی بحران سے نکال چکا ہے۔
15 جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت نے ترکی کو ایک ایسے دفاعی بحران میں دھکیل دیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ فتح اللہ گولن تنظیم سے وابستگی کے شبہے میں ترک حکومت نے اپنے ہی ساڑھے چھ سو سے زائد تجربہ کار پائلٹس کو فارغ اور گرفتار کر لیا۔ ملک کے پاس جدید ترین ایف16طیارے تو موجود تھے، لیکن شام کی خطرناک سرحد پر داعش، کرد جنگجوؤں اور دیگر عالمی قوتوں کے سامنے ان طیاروں کو اڑانے کے لیے پائلٹس کا شدید قحط پڑ چکا تھا۔
اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انقرہ نے اپنے مغربی نیٹو اتحادیوں اور امریکہ کی طرف دیکھا۔ ترکی نے درخواست کی کہ اسے ایف-16 اڑانے کے لیے فوری طور پر انسٹرکٹرز دیے جائیں۔ لیکن واشنگٹن نے مدد کرنے کے بجائے پینٹاگون کے سخت قوانین اور اینڈ یوزر ایگریمنٹ کا بہانہ بنا دیا۔ امریکہ نے ترکی کو مجبور کرنا چاہا کہ وہ اپنے پائلٹس ٹریننگ کے لیے واشنگٹن بھیجے، جس میں مہینوں لگ سکتے تھے۔
جب مغرب نے پیٹھ دکھا دی، تو ترکی نے اپنے سب سے قابل اعتماد بھائی، پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
ترکی نے اس وقت پاکستان ایئر فورس کے اہم افسر عباس گھمن کے ذریعے اسلام آباد تک پیغام پہنچایا۔ جو ترکی میں پاکستان کے فوجی اتاشی تھے۔ امریکی مخالفت اور بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود، پاکستانی قیادت نے ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا۔ پاکستان نے واشنگٹن کے دباؤ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ترکی کی پکار پر لبیک کہا اور فوری طور پر اپنے پائلٹس اور ٹرینرز بھیجنے کی تاریخیں طے کر لیں۔”
اگرچہ امریکی قانونی پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی پائلٹس براہِ راست ترکی کے ایف16 طیاروں پر تربیتی مشنز انجام نہیں دے سکتے تھے، لیکن دونوں برادر ممالک نے اس کا ایک شاندار متبادل راستہ نکالا۔ پاکستان ایئر فورس نے ترک فضائیہ کے نئے کیڈٹس کی بنیادی اور ایڈوانس فلائٹ ٹریننگ کا پورا نظام سنبھال لیا۔ اسی بحران کے دوران، ترکی نے پاکستان سے
52سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی خریداری کا تاریخی معاہدہ کیا، تاکہ نئے پائلٹس کی تیاری کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ جہاں خلوص ہو، وہاں راستے خود ہی نکل آتے ہیں۔
عباس گھمن 2019 میں ایئر وائس مارشل اور پھر ایئر مارشل بنے۔ انہوں نے 2022 میں ایک دفاعی نمائش میں بتایا کہ جب ترک حکام نے رات دو بجے رابطہ کیا تو عباس گھمن نے اسی وقت پاکستان میں ایئر فورس قیادت سے بات کی۔ جواب ملا، ترک قیادت کو بتا دو ہمارے پائلٹ تیار ہیں۔ رات چار بجے عباس گھمن نے ترک قیادت کو بتا دیا کہ پاکستانی پائلٹ تیار ہیں۔ اس پر ترک وزیر دفاع عباس گھمن کو
صدر اردوان کے پاس لے گئے۔ ترک صدر نے پاکستان کا جواب سنتے ہی کہا دنیا میں اگر ترکی کا کوئی پہلا اتحادی ہے، تو وہ پاکستان ہے، اور اگر کوئی دوسرا اتحادی ہے، تو وہ بھی صرف پاکستان ہے!
مکہ معاہدے کے بعد سابق ایئر مارشل عباس گھمن کی وہ پرانی ویڈیو ترک اور عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں وہ ترکی کیلئے پاکستان کی مدد کا واقعہ بیان کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو اس بات کی گواہ ہے کہ مکہ معاہدہ راتوں رات نہیں ہوا بلکہ پاکستان بہت عرصہ پہلے ترکیہ اور سعودی عرب کا اعتماد جیت چکا تھا۔