ایران،امریکہ 60 روزہ مذاکراتی مدت ختم۔واشنگٹن اسلام آبادمفاہمت پرعملدرآمد کرے،تہران

ایران اپنی خارجہ پالیسی کسی دباؤ، دھمکی یا مقررہ مدت کی بنیاد پر طے نہیں کرتا۔

August 17, 2026 · بام دنیا

ایران ،امریکہ جنگ میں 60 روزہ مدت کے تحت 17 اگست کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ۔ایران نے  60 روزہ مذاکراتی مدت کو غیر مؤثر قرار دے دیا ۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس مدت کی کوئی عملی اہمیت باقی نہیں رہی۔ امریکہ سے اسلام آباد مفاہمت پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا گیاہے۔

 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں 60 روزہ مدت کو باقاعدہ اور لازمی ڈیڈ لائن کے طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایران اپنی خارجہ پالیسی کسی دباؤ، دھمکی یا مقررہ مدت کی بنیاد پر طے نہیں کرتا۔

 

بقائی کے مطابق 18 جون کی یادداشت میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے سمیت دو اہم موضوعات پر مذاکرات کے لیے تقریباً 60 دن کا وقت زیرِ غور آیا تھا۔ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع کی گنجائش بھی موجود تھی۔

 

ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے یادداشت پر دستخط کے کچھ ہی عرصے بعد اس کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مذاکرات شروع ہی نہیں ہوئے تو 60 روزہ مدت کو بنیاد بنانے کی بحث بھی ختم ہوگئی۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی مؤقف بیان کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں ایران کے خودمختار حقوق سے متعلق قوانین پہلے ہی موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہے اور مجوزہ قانون سازی سے متعلق اپنی ماہرین کی رائے بھی فراہم کرچکی ہے۔ ضرورت پڑنے پر وزارت خارجہ مزید مشاورت کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال اور ملکی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی معاملات پر پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ادھر،پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

 

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ ینگ جرنلسٹس کلب کو دیے گئے انٹرویو میں یداللہ جوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس پر نافذ انتظامات کبھی جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائیں گے۔

 

پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی کئی ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ سے نکال لیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان ایک آبی گزر گاہ کے بارے میں جو بات اس وقت زیرِ بحث ہے، وہ صرف جنگ کے خاتمے اور اس کے حتمی طور پر ختم ہونے کے بعد کے لیے ہے۔

 

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے پر مذاکرات کی 60 روزہ مدت آج، 17 اگست، کو ختم ہو رہی ہے،مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

 

یہ ڈیڈ لائن 17 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مقرر کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ فروری میں شروع ہونے والے اس تنازعے کا خاتمہ ممکن ہوگا، تاہم اس جنگ نے خلیج میں توانائی کی منڈیوں اور بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔

17 اگست کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ کیا 60 روزہ فریم ورک کو باقاعدہ توسیع ملتی ہے اور کیا امریکہ اور ایران براہِ راست مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں۔