یادرگار فتح کی تقریب سے تین وزرائے اعلیٰ غائب کیوں تھے،منیب فاروق کا بڑا دعویٰ

یہ یادگار 2025 کی جنگی جھڑپوں میں پاکستان کی کامیابی اور شہداء کی قربانیوں کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔

August 17, 2026 · امت خاص

اسلام آباد: یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ میں سے صرف پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شرکت کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو نظر انداز کیے جانے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

13 اور 14 اگست کی درمیانی شب اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تقریب میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ طور پر یادگارِ فتح کا افتتاح کیا۔ یہ یادگار 2025 کی جنگی جھڑپوں میں پاکستان کی کامیابی اور شہداء کی قربانیوں کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔

تقریب میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شرکت کے برعکس سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ موجود نہیں تھے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔

صحافی منیب فاروق کے مطابق تینوں وزرائے اعلیٰ کی عدم شرکت کو محض دعوت نہ ملنے سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ ان کے مطابق چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبائی دارالحکومتوں میں یوم آزادی سے متعلق تقریبات میں مصروف تھے، جس کے باعث وہ اسلام آباد کی تقریب میں شرکت نہ کرسکے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی عدم شرکت کے حوالے سے مختلف سیاسی مصروفیات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ صوبے میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی پروگراموں میں مصروف تھے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق قومی نوعیت کی اہم تقریبات میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے، اس لیے یادگارِ فتح کی تقریب میں تین وزرائے اعلیٰ کی غیر موجودگی کو وفاقی حکومت کی جانب سے کسی مخصوص صوبے کو نظر انداز کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

یادگارِ فتح کی تقریب میں صدر مملکت اور وزیراعظم کے علاوہ اعلیٰ عسکری و سول حکام، سیاسی شخصیات اور دیگر اہم افراد نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے دوران شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور قومی یکجہتی، دفاع اور ملکی سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تین وزرائے اعلیٰ کی عدم شرکت کے معاملے نے تاہم سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ تمام صوبائی حکومتوں کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور عدم شرکت کی وجوہات متعلقہ وزرائے اعلیٰ کی اپنی مصروفیات سے متعلق تھیں۔