عمران خان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا، بے چینی میں بہت زیادہ اضافہ
سابق وزیراعظم عمران خان نے یکم اگست 2026ء کو بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ، سر درد، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور شدید ذہنی تناؤ کی شکایت کی
اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گزشتہ تین سال کے طبی معائنوں کی تفصیلات شامل کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم اگست 2026 کو عمران خان نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور ذہنی دباؤ کی شکایات کیں۔ اس کے بعد پمز اسلام آباد کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے ان کا طبی معائنہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معائنے کے وقت عمران خان کا بلڈ پریشر 140/100 ملی میٹر مرکری ریکارڈ کیا گیا، جبکہ فروری 2026 میں اسی ڈاکٹر کے معائنے کے دوران ان کا بلڈ پریشر 120/80 تھا۔
طبی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے نارواسک 5 ملی گرام روزانہ صبح دینے کی ہدایت کی، جبکہ دل کے مزید تفصیلی معائنے کے لیے سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی تجویز بھی دی گئی۔
رپورٹ میں ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے، جن میں اہل خانہ خصوصاً اہلیہ سے ملاقات کا دورانیہ بڑھانے اور مطالعے کے لیے مناسب مواد فراہم کرنے کی سفارش شامل ہے۔
دوسری جانب صحافی ثاقب بشیر نے رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پمز کے میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی ذہنی کیفیت میں شدید بے چینی کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں انزائٹی کی سطح کو ’’+++‘‘ ظاہر کیا گیا ہے۔
ثاقب بشیر کے مطابق انہوں نے ایک ڈاکٹر سے ’’+++‘‘ کی وضاحت دریافت کی تو ڈاکٹر نے اسے شدید درجے کی بے چینی اور بے سکونی سے تعبیر کیا۔ تاہم اس وضاحت کو طبی تشخیص کے بجائے رپورٹ کی تشریح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی صحت اور جیل میں طبی سہولیات سے متعلق معاملات اس سے قبل بھی عدالتی سطح پر زیر بحث آتے رہے ہیں۔